ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / یوپی میں سیٹوں کی تقسیم کو لے کر بی جے پی کی اتحادی جماعتوں سے بات چیت جاری

یوپی میں سیٹوں کی تقسیم کو لے کر بی جے پی کی اتحادی جماعتوں سے بات چیت جاری

Tue, 24 Jan 2017 22:12:53    S.O. News Service

نئی دہلی،24/جنوری (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)بی جے پی صدر امت شاہ اور یوپی کے انچارج اوم ماتھر نے یوپی میں سیٹوں کی تقسیم کو لے کر اپنی دو اتحادی جماعتوں سے بات چیت کی ہے۔اپنا دل کے ساتھ بات چیت ابھی چل رہی ہے جبکہ سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی کے ساتھ پارٹی کے اتحاد کو حتمی شکل دی جا چکی ہے۔یوپی میں بی جے پی 403میں سے زیادہ تر سیٹوں پر الیکشن لڑے گی۔دیگر ریاستوں میں بی جے پی کی اتحادی پارٹیاں یوپی میں بی جے پی کے ساتھ تال میل چاہتی تھیں، مگر پارٹی نے ریاست کی دو جماعتوں کے ساتھ ہی تال میل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔واضح رہے کہ مرکزی وزیر اوپیندر کشواہا کی پارٹی راشٹریہ سمتا پارٹی ریاست میں اکیلے ہی الیکشن لڑنے کا فیصلہ کر چکی ہے۔بی جے پی لیڈروں کی بات چیت اپنا دل کی لیڈر انو پریا پٹیل سے ہوئی ہے۔اپنا دل نے یوپی اسمبلی انتخابات کے لیے بی جے پی سے 16سیٹوں کا مطالبہ کیا ہے۔ابھی تک بی جے پی 10سیٹوں کے لیے ہی تیار ہوئی ہے۔اپنا دل نے مرزا پور کی چنار، مدیہان اور وارانسی کی پڈرا، روہنیا، سیواپوری سیٹ پر دعوی کیا ہے،ابھی وارانسی اور مرزا پور بحث نہیں ہوئی ہے۔وارانسی کی تمام سیٹوں پر وزیر اعظم نریندر مودی سے بات چیت کے بعد فیصلہ کیا جائے گا، کیونکہ وہ یہاں سے ممبر پارلیمنٹ ہیں۔وہاں کی دو اسمبلی سیٹوں پر بی جے پی کے رکن اسمبلی ہیں، جبکہ روہنیا سے انوپریا پٹیل ممبر اسمبلی رہ چکی ہیں،امکان ہے بی جے پی یہ سیٹ بھی اپنا دل کو دے دے۔
بی جے پی سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی سے اتحاد کرے گی۔اس کے صدر اوم پرکاش راج بھر ہیں۔سمجھوتہ کے تحت راج بھر کی پارٹی 8سیٹوں پر الیکشن لڑے گی۔خود راج بھر مؤ سیٹ سے لڑیں گے،جہاں ان کا مقابلہ دبنگ لیڈر مختار انصاری سے ہونے کاامکان ہے۔سمجھوتے کے تحت بی جے پی نے بھاسپا کو 5 سیٹیں دے دی ہیں۔یہ مؤ، زکھنیاں، ظہورآباد، اجگرا اور میہہ  نگرکی سیٹیں ہیں۔مؤ کو چھوڑ کر باقی چاروں سیٹیں محفوظ ہیں۔بی جے پی سے زیادہ سیٹیں لینے کے لیے اپنا دل راج بھر سے ہوئے بی جے پی کے سمجھوتے کی دلیل دے رہا ہے۔اپنا دل کا کہنا ہے کہ راج بھر کو 8سیٹیں دی گئیں،جبکہ اب اس کا نہ تو کوئی ایم پی ہے اور نہ ہی کوئی رکن اسمبلی، جبکہ اپنا دل کے دو ایم پی اور ایک رکن اسمبلی ہیں،اس لیے 16سیٹوں پر اس کا دعوی بنتا ہے،لیکن بی جے پی 12سے زیادہ سیٹیں نہیں دینا چاہتی ہے، کیونکہ اپنا دل دو خیموں میں تقسیم ہو چکی ہے۔غورطلب ہے کہ  اوم پرکاش راج بھر اپنا دل کے بانی سونے لال پٹیل کے ساتھ ہی کندھے سے کندھا ملا کر کام کرتے رہے ہیں۔ان کے انتقال کے بعد انہوں نے سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی بنائی تھی، ان کی پارٹی کا انتخابی نشان چھڑی ہے۔ادھر بی جے پی کی کوشش غیر یادو پسماندہ طبقے اور غیر جاٹو دلتوں کو اپنے ساتھ لانے کی ہے، اس لیے اس نے خاص طور سے پٹیل، کرمی، کوری، راج بھر کمیونٹی کے لیڈروں پر توجہ مرکوز کی ہے۔راجہ سہیل دیو کا مجسمہ نصب کرنے کے پروگرام میں خود امت شاہ شامل ہوئے تھے، مودی حکومت نے سہیل دیو کے نام پر ایک ٹرین بھی چلائی ہے۔
 


Share: